Loveآج کل

محترم قارئین امےد ہے آپ اس کالم کو جنسےات پر مبنی لٹرےچر نہےں سمجھےں گے اور نہ ہی اس کا مقصد کسی کی حق تلفی ہے۔ آج سے بےشمار سال قبل اےک آواز آئی اورآباءحضرت انسان جنہےں ہم آدمؑ کے نام سے جانتے ہےں اس آواز کی تاثےر کی تاب نہ لا سکے اور دےوانہ وار اس آواز کی طرف چل پڑئے اور ےوں حضرت آدم ؑ حضرت حواءعلےہ الصلوٰة اولسلام ےعنی اولےں وجودِ زن کی مالکہ سے ملا قات کرتے ہےںاور پھر اس کے سحر مےں ےو ں گر فتا ر ہوتے ہےں کہ کچھ ہو ش نہےں رہتا ےہاں تک کہ اس ہستی کہ جس نے نہ صرف ان (آدمؑ)کو تخلےق کےا بلکہ ان کے مطلوب ےعنی حضرت حواءکو بھی تخلےق کےا تھا اس کو اور اس کے فر مان کہ اس شجر(درخت) کے پاس نہ جانا کو بھی بھول گئے۔ اس جادوئی کشش کی مالکہ(حضرت حواؑ ) کے سحر مےں آکر ان کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف اس شجر(درخت) کے پاس گئے بلکہ دونوں نے اس شجر کا پھل بھی کھاےا کہ جس کی پاداش مےں خد ائے بزرگ و بر تر نے ان کو برہنہ زمےن پر بھےج دےا اور ان سے وہ سب نعمتےں اورآسائشےں چھےن لےںجن سے وہ جنت مےں لطف اند وز ہورہے تھے ۔ آج بھی وجو دِ زن جب گھر سے باہر نکلتا ہے تو آدم کے بےٹے اک جھلک دےکھتے ہےں تو ان کی نظر ےں ان کو وہاں تک چھوڑ کے آتی ہےں جہاں حدِ نظر ہو ۔ آج جب کوئی لڑکی گھر سے نکلتی ہے اور آدم کو بےٹا اس کو دےکھتا ہے اور اگر وہ اس کے سحر مےں گر فتا ر ہو جاتا ہے تو ےہ بات اپنی ابتداءکی طرف ہی اشارہ کرتی ہے جب دو انسان آدم اور حواءآپس مےں ملتے ہےں مگر ےہاں جب مرد و زن کی نظرےں چار ہوتی ہےں کبھی اےک تو کبھی دونوں اےک دوسرے کو پالےنے اورپھر جسمانتی تعلق جوڑ لےنے کو اپنی منزل سمجھتے ہےں جسے لوگ محبت اور مےں لو آج کل کا نام دونگا ۔ ےہ محبت کبھی موبائل کبھی انٹر نےٹ اور کبھی براہ راست نظرےں چار ہونے سے شروع ہوتی ہے اور انجام بعد از شادی جسمانی تعلق اور کبھی کبھار قبل از شادی جسمانی تعلق قائم ہونے پر ہوتا ہے جو کہ معاشرتی برائی ہے۔ روزانہ اےسی ہزاروں محبتےں شروع ہوتی ہےں اور پھر اپنے جسمانی انجام کو پہنچتی ہےں ۔اور اس کا اگر دوسرا پہلو دےکھا جائے تو محبت کرنے والی لڑکےوں کی کثےر تعداد اپنے والدےن با لخصوص والدہ کی نافرمان دےکھی گئی ہےں اور لڑکوں کا حال دےکھا جائے تو وہ بھی اگر چہ شدت سے نہ صحےح مگر وہ بھی والد کے نافر مان دےکھے جاتے ہےں۔سوال ےہ پےدا ہوتا ہے کہ کےا واقعی محبت اسی خواہش کا نام ہے جس کا نتےجہ والدےن سے بغاوت اور اےک جسمانی تعلق ہے ےا وہ کہ جس کے بارے مےں ہم پرانی داستانوں(لےلیٰ مجنوں، ہےر رانجھا، شےرےں فرہاد) وغےرہ مےں سن چکے ہےں ۔ بندہ نا چےز ماضی کی محبت کی داستانوں کے کردار سے براہ راست ملنے اور ان سے احوال جاننے سے قاصر ہے مگر اپنے اےک دوست کی رو داد ِ محبت پےش کر نا چا ہوں گا، جس کا اصل نام تو کچھ اور ہے مگر مےں اس کے فرضی نام اوےس کے ساتھ اس کا ذکر کر رہا ہوں جو کہ بندہ کو اپنا حال بےان کر تا ہے کہ آج سے عرصہ تقرےباً 6,7سال قبل وہ کسی لڑکی کی محبت مےں گرفتا ر ہوگےا اور اس کی نظر مےں اس لڑکی کا وجود مقدس اور سب سے بڑھ کر تھا مگر دونوں مےں سے کبھی کسی کے بھی دل مےں اےک دوسرے کے وجود کو ٹےچ (مَس) کر نے کا اِرادہ ےا خواہش نہ ہوئی کےونکہ مطلوب و مقصود صرف اےک دوسرے کا دےدا ر ہوتا تھا ۔ پھر ہر وقت اےک دوسرے کے خےالوں مےں کھوئے رہنا ےہاں تک سونے سے پہلے اور سونے کے بعد بھی اےک دوسرے کے تصور مےں گم رہنے تک تو بات سمجھ مےں آتی تھی مگر ےہاں معاملہ ہی کچھ اور تھا اوےس کہتا ہے کہ جب وہ سوتا تو رات کو اُسے اسی کے خواب آتے اور وہ اکثر خواب مےں اےک دوسرے سے ملا قات کرتے اور صبح کو جب ملتے تو اوےس جو خواب بےان کرتا اس کا بقےہ حصہ وہ لڑکی بےان کرتی ےا لڑکی جو خواب دےکھتی اسکا بقےہ حصہ اوےس بےان کرتا اور ےہ ان دونوں کے در مےان عام سی بات تھی بندہ نا چےزنے اوےس سے اس لڑکی کے ساتھ جسمانی تعلق قائم نہ کرنے اور بھاگ کر شادی نہ کرنے کے پےچھے جو حقےقت تھی اسکو بے نقاب کرنے کے لےے وجہ درےافت کی تو اس نے کہا کہ مےںاس لڑکی سے محبت کرتا تھا کرتا رہونگا اور مےرے لےے اس کی عصمت اور اس محبوبہ کے والدےن کی عزت برابرتھی اور مےں ےہ سو چ بھی نہےں سکتا تھا کہ مےری وجہ سے اسکی عزت پر حرف آئے کےونکہ جس سے محبت کی جاتی ہے اس کی عزت سمےت ہر چےز سے محبت کی جاتی ہے ۔ سوال ےہ پےدا ہوتا ہے کہ وہ حقےقی محبت ہے جسے” Loveآج کل“ کا نام دےا گےا ہے جس کا انجام والدےن سے بغاوت اور اےک نفسانی خواہش تسکےن اور اکثر شادی کے بعد بچوں کی پےدائش کے بعد وہ محبت بھی کہےں کھو جاتی ہے ےااوےس کی وہ محبت جس مےں چاہت تو ہے مگر کہےں رسوائی نظر نہےں آتی۔فےصلہ آپ کا ہے۔
(محمد مزمل رشےد )

About apnamianchannu

A City Web Project
This entry was posted in مضامین, ادب اور فن and tagged . Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s