الحاج اویس رضا قادری کی میاں چنوں آمد….

 

تحریروترتیب:نثار چودھری
یوں تو میاں چنوں میں محافل نعت کا انعقاد مختلف مقامات پر گاہے بگاہے ہوتا رہتا ہے اور عاشقان رسول ﷺ جوق درجوق ان بابرکت محافل میں شریک ہوکر فیوض وبرکات اپنے دامن میں سمیٹتے رہتے ہیں اور ہر محفل ہی روح کی تسکین بنتی ہے لیکن میاں چنوں میں ایک محفل نعت ایسی بھی منعقد ہوئی جو اپنی انفرادیت کی وجہ سے مدتوں یاد رکھی جائے گی یہ محفل گزشتہ دنوں وجد کی رات کے نام سے غلہ منڈی میاں چنوں میں منعقد ہوئی تھی اور اس محفل کی انفرادیت اور خاص بات یہ تھی کہ اس محفل میں میاں چنوں کی سرزمین پر پہلی بار معروف عالمی شہرت یافتہ ثناءخوان الحاج اویس رضا قادری تشریف فرما ہوئے تھے اویس قادری جوکہ بین الاقوامی شہرت کے حامل نعت خواں ہیں ثناءخوانی میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں وہ جس محفل میں جاتے ہیں لوگ دیوانہ وار اس محفل میں شریک ہوکر اپنے شوق ایمانی کو جلا بخشتے ہیں اور اویس رضا قادری اپنی پرسوز آواز کا ایسا جادو جگاتے ہیں کہ لوگوں پر بے خودی اور سحر کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اہلیان میاں چنوں کو یہ خوشخبری ملی کہ دلوں کو مسخر کرلینے والے ثنا ءخوان مصطفیﷺ حضرت الحاج اویس رضا قادری ان کی سرزمین پر تشریف لارہے ہیں تو عاشقان مصطفی ﷺ میں ایک عجیب سی روحانی خوشی کی لہر دوڑ گئی، یہ خوشی اس لئے بھی دلوں میں اترگئی کہ ان کے محبوب ثناءخوان جنہیں وہ اس سے پیشتر مختلف ٹی وی چینلز پر ہی دیکھتے تھے یا ان کی آڈیو سنتے تھے اب براہ راست ان کے روبرو ان کی نگاہوں کے سامنے جلوہ افروز ہوکر اپنی خوبصورت آواز سے ان کی سماعتوں کی تسکین کریں گے۔ یہ محفل پانچ اپریل کو منعقد ہونا تھی اور شہر بھر کے لوگوں کو کئی روز پہلے اس تاریخ کا شدت سے انتظار شروع ہوگیا تھا،انتظامی کمیٹی کی طرف سے اس پروگرام کی پبلسٹی اپنی جگہ لیکن لوگ ایک دوسرے کو خوشی سے بتاکر کہ اویس قادری صاحب تشریف لارہے ہیں پبلسٹی کا زیادہ باعث بن رہے تھے خدا خدا کرکے پانچ اپریل کا دن آیا محفل کی انتظامیہ جس کے روح رواں یاسین جانگلہ تھے جنہوں نے شب وروز محنت کرکے اس پروگرام کو عملی شکل دی پانچ اپریل کو غلہ منڈی میں محفل کے مقام کو انتہائی خوبصورت طریقے سے سجایا ،جگمگاتی روشنیاں خوبصورت منظر پیش کررہی تھیں سرشام ہی لوگوں کی چہل پہل شروع ہوگئی تھی ایک جشن کا سا سماں محسوس ہورہا تھا، عشا ءکی نماز کے بعد لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا پولیس کے جوان سیکورٹی کیلئے الرٹ تھے اور لوگوں کو تلاشی کے بعد پنڈال میں داخل ہونے دیاجارہا تھا نو بجے تک پنڈال لوگوں سے بھرچکا تھا۔لوگوں کا ایمانی جوش وجذبہ دیدنی تھا اور اس بات پر بڑے خوش تھے کہ آج کچھ گھنٹوں بعد وہ اپنے محبوب ثنا خوان کو اپنی نظروںکے سامنے بٹھاکر سنیں گے۔محفل کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اور یہ سعادت قاری ظفر اقبال نے حاصل کی جنہوں نے نہایت ہی خوبصورت لہجے کے ساتھ کلام پاک سے لوگوں پر ایک ایمانی کیفیت طاری کردی اس سے قبل مقامی ثنا خوانوں نے شان رسالت ﷺمیں گلہائے عقیدت پیش کئے، تلاوت کلام پاک سے باقاعدہ آغاز کے بعد مہمان ثنا خوان وسیم عباس چشتی آف چیچہ وطنی اور قاری شفقت رسول سہروردی آف ساہیوال نے گلہائے عقیدت پیش کرکے محفل میں وہ سماں باندھا کہ حاضرین عش عش کر اٹھے نعرئہ تکبیر اور نعرہ رسالت ﷺکے نعروں سے فضا گونجتی رہی اس دوران نقابت کے فرائض معروف مقرر کمپیئر پروفیسر اقبال عابد نے سنبھال لئے جنہوں نے منفرد انداز میں کمپیئرنگ کرکے ایمان سے نکھرے ہوئے ماحول کو مزید نکھار دیا۔رات ساڑھے بارہ بجے سے اوپر کا وقت ہوچکا تھا اوراویس رضا قادری ابھی تک تشریف فرما نہیں ہوئے تھے لوگوں کو پل پل ان کی آمد کا بے چینی سے انتطار تھا اس دوران کمپیئر اقبال عابد نے اعلان کیا کہ لوگوں کے محبوب ثنا خواں اویس قادری صاحب تھوڑی دیر تک تشریف لانے والے ہیں ان کی آمد تک کیو ٹی وی ملتان کے ثنا خوان حافظ محمد مطاہر قادری اپنی خوبصورت آواز سے لوگوں کے دلوں کو گرمائیں گے۔ حافظ مطاہر قادری نے بلاشبہ وہ سماں باندھا کہ ایمان تازہ ہوگئے اور کم وبیش ایک گھنٹہ تک انہوں نے عاشقان رسول ﷺ کو مسحور کئے رکھا۔ ٹھیک رات کے ڈیڑھ بجے اعلان ہوا کہ الحاج اویس رضا قادری تشریف لاچکے ہیں اور سٹیج پر آیا ہی چاہتے ہیں۔ یہ اعلان سنتے ہی لوگوں کے جوش وخروش میں اضافہ ہوگیا اور ہر طرف سے اللہ اکبر کے نعروں کی آواز گونجنے لگی۔ جیسے ہی قادری صاحب سٹیج پر نمودار ہوئے لوگوں نے انتہائی قلبی مسرت کے ساتھ کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا اور پھر فضا میں تکبیر اور رسالت کے نعرے گونجتے رہے۔ سٹیج پر شریف کاٹن جنرز کے حاجی محمد شریف، میاں جاوید اقبال، حاجی احسان شاہد باری اور مولانا مفتی رفیق احمد شاہجمالی نے اویس قادری کا پرجوش استقبال کیا۔ انہوں نے اپنے اس استقبال اور بے پناہ محبت بھرے جذبات کیلئے انتظامیہ اور شرکائے محفل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں گزشتہ بائیس برس سے نعت خوانی کررہا ہوں لیکن میاں چنوں میں پہلی مرتبہ آنے کا اتفاق ہوا آپ کی بے تحاشا محبت پاکر دل کو روحانی سکون حاصل ہوا۔ اگر آپ نے پروگرام کے آخر تک ایسی محبت اور نظم وضبط کا ثبوت دیا تو میرے لئے خوشی کی بات ہوگی اور میرا دل چاہے گا کہ میں دوبارہ آپ کے شہر میں آو¿ں، اویس رضا قادری تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک عاشقان رسول ﷺ کے کانوں میں رس گھولتے رہے۔ ان کی مسحور کن آواز میں نعتیہ کلام سن کرپہلی مرتبہ کسی محفل میں لوگوں کو آنسوو¿ں کے ساتھ روتا ہوا دیکھا گیا لوگ فرط جذبات سے اٹھ اٹھ کر ان کے ہاتھ چومتے رہے صاحب ثروت لوگوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں نے بھی ان پر نوٹوں کی بارش کردی۔ پورے ماحول پر ایک ایمانی کیفیت طاری تھی، پوری فضا محبت کی خوشبوو¿ں سے مہکی ہوئی تھی ہر طرف عقیدت کے جذبوں کے رنگ بکھرے ہوئے تھے، لوگ مبہوت ہوکر اویس قادری کا کلام سن رہے تھے اور ہر فرد بے خودی کی رنگ میں رنگا ہوا سرکار دو عالم ﷺ کی محبت میںڈوبا ہوا پرکیف جذبوں سے سرشار نظر آرہا تھا اویس قادری اپنے منفرد انداز کے ساتھ ہر شعر کی تشریح کے ساتھ کلام سناتے تو مزہ دوبالا ہوجاتا ہر نعت کے بعد شرعی امور پر گفتگو کرتے رہے جس سے لوگوں کو خاصی دینی معلومات حاصل ہوئیں۔ اس دوران اویس قادری نے لوگوں سے وعدہ لیا کہ وہ معاشرے میں یکجہتی محبت اور امن پیدا کرنا چاہتے ہیں تو وہ سلام کو عام کریں سلام جس کا مطلب دوسروں پر سلامتی بھیجنا ہے اگر اسے ہم عام کریں اور کثرت سے ایک دوسرے پر سلامتی بھیجیں گے تو لامحالہ محبتوں کو فروغ ملے گا جس سے معاشرہ امن وسکون کا گہوارا بنے گا۔ ٹھیک رات کے تین بجے اویس قادری اپنا کلام ختم کرکے درود سلام کیلئے کھڑے ہوگئے۔اس کے ساتھ تمام لوگ بھی کھڑے ہوگئے۔ جبکہ لوگوں کا ذوق کا یہ عالم تھا کہ اگر اویس قادری مزید ایک گھنٹہ اور ثناخوانی کرتے تو لوگ ذہنی طورپر تیار تھے۔ سلام کے بعد لوگ دیوانہ وار ان کی طرف ہاتھ ملانے کیلئے لپکتے رہے۔ اویس قادری نے لوگوں کی محبتوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ خوشگوار یادیں لیکر جارہا ہوں اور میری خواہش ہے کہ میں سال میں ایک مرتبہ میاں چنوں ضرور آو¿ں اور اس طرح رات کے تیسرے پہر الحاج اویس رضا قادری لوگوں میں خوشگوار یادیں چھوڑکر رخصت ہوگئے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس خوبصورت محفل کو سجانے اور اویس قادری کو اس محفل کی زینت بنانے میں ڈائریکٹر کاٹن جنرز میاں جاوید اقبال نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کے خلوص محبت اور محنت نے محفل کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ وہ بلاشبہ ایک باہمت پرجوش اور پرعزم انسان ثابت ہوئے جنہوں نے جو سوچا وہ کرلیا اور آرگنائزر میاں غلام حسین جانگلہ نے بھی کئی روز کی محنت کے بعد نہایت مو¿ثر اور منظم انتظامات کئے اور اس محفل کی کامیابی میں ان کا بھی بڑا عمل دخل ہے اسی طرح دیگر ساتھیوں میں محمد قذافی، سعید احمد،حسن رضا شاہ ایڈووکیٹ، رشید طور، شوکت بلا طور وغیرہ بھی پیش پیش رہے۔

 

 

 

About apnamianchannu

A City Web Project
This entry was posted in اسلام, اسلامک پروگرام and tagged . Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s