قصور وار کون تھا؟

اُمِ ابیحہ

اس کو لکھنے سے پہلے میں نے کئی بار سوچا پھر رہنے دیا پھر سوچا پھر رہنے دیا سمجھ نہیں آ رہا تھا لکھوں یا نہ لکھوں پھر سوچا لکھنا چاہئے ہو سکتا ہے کسی اور کو پڑھ کر لگے یہ اس کے ارد گرد کی کوئی کہانی ہے یا پھر کسی کہانی کی طرح کوڑے والی ٹوکری کی نظر ہو جائے پھر بھی لکھنا چا ہ رہی تھی اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ایک سائیکاٹرسٹ نے ایک دفعہ کہا تھا جب دل میں بات ہو اس کہ شیئر نہ کرنا چاہو کسی انسان کے ساتھ تو سب سے اچھا طریقہ ہے اس کو کاغذپر لکھو اور جب سکون ہو جائے تو پھر ردی کی ٹوکری کی ذینت بنا دو کیونکہ اس سے تمہارے دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا اور ساتھ ہی ساتھ وہ راز کسی اور تک نہ پہنچے گا۔اس واقع میں جس عورت کا ذکر ہے اس کا نام میں احتیاطََ نہیں لکھ رہی۔”جمیلہ ” ©اپنے والدین کے ساتھ ایک گاﺅں میں رہ رہی تھی دو بھائیوں کی بڑی بہن تھی باپ پیشے کے لحاظ سے زمیندار تھا گاﺅں میں پرائمری سکول تھا یہا ں سے تعلیم حاصل کی پھر ساتھ والے گاﺅں کا رخ کیا یوں آٹھویں کا امتحان پاس کیا اور نویں کلاس میں داخلہ لیا تو باپ کی ذمہ داری میں اضافہ ہو گیا روز سوکول لانا اور چھوڑنا معمول کی عادت تھی۔ایک دن "جمیلہ ” کے باپ کی طبیعت خراب ہوئی اور وہ بیمار ہو گیا جو معمولی سی بات تھی مگر یہ بات معمولی نہ رہی ایک سال کے طویل عرصے کے بعد "جمیلہ ” کا باپ وفات پا گیا۔”جمیلہ ” کے سالانہ امتحانات تھے مگر وہ شمولیت نہ کر سکی” جمیلہ ” کی ماں نے بیٹی سے کہا اب پڑھائی چھوڑ دو کیونکہ ذمہ داری بھائیوں کے کندھوں پر ہے وہ دونوں بھائی اپنی زمین کی کاشت کاری کر رہے تھے۔دو سال کے بعد” جمیلہ ” کی شادی اپنے چچا کے بیٹے کے ساتھ ہوگئی۔یہ ایک عام سی کہانی ہے اکثر گھروں کی باتیں اور کہانیاں ایسی ہی ہوا کرتی ہیںشادی کے ایک سال بعد "جمیلہ "کا شوہر سعودی عرب روزگار کے لئے چلا گیا۔ تین سال کے عرصے بعد وہ واپس آیا تو” جمیلہ ” کی مشکلات میں اضافہ ہوا.اولاد نہ ہونے کی وجہ سے "جمیلہ ” کو ذہنی کوفت برداشت کرنا پڑی۔”جمیلہ ” کے شوہر کا رویہ بہت اچھا تھا کسی قسم کے مسائل کا” جمیلہ ” کو کبھی سامنا نہ کرنا پڑا۔ چچی جو کے اب ساس تھی اور اپنے بیٹے کی اولاد چاہ رہی تھی بیٹے کی دوسری شادی کے لئے بضد ہو گئیں مگرجمیلہ کا شوہر نہ مانا اور واپس سعودی عرب چلا گیا۔دو سال بعد واپسی ہوئی تو پھر وہ ہی مسائل آخر جمیلہ کا شوہر دوسری شادی کے لئے مان گیا ۔جمیلہ کے شوہر کی دوسری شادی کا ہونا تھا اللہ تعالٰی نے جمیلہ کو ایک بیٹے سے نواز دیا۔ ایک طرف خدا کی نعمت اور دوسری طرف اس نعمت کی نا شکری ۔”جمیلہ ” کو اس کے میکے بھیجا گیا اور ساتھ ہی طلاق بھجوا دی گئی۔اس کا شوہر اس اثناءمیں ملک سے باہر تھا۔ جمیلہ اپنے ماں باپ کے گھر موجود تھی جمیلہ کا بیٹا ایک سال کا ہوا تو بیمار ہو گیا۔بیماری کی تشخیص کا مجھے معلوم نہیں مگر جمیلہ کے مطابق اس کے سر میں کوئی مسلہ تھا۔میرے جیسےی ایک عورت نے مشورہ دیا” جمیلہ ” کا سابقہ شوہر جو بیٹے کا باپ ہے اس سے کہو بیٹے کا علاج کر وائے۔جمیلہ کے سابق شوہر نے بیٹے کا علاج نہ کروایا تواس نے عدالت کا رجوع کیا اورشوہرکوعدالت کی طرف سے نوٹس بھجوا دیا اس بات پر اس کے بھائیوں نے اس سے قطع تعلقی اختیار کر لی مگر© جمیلہ کی ماں اپنی بیٹی کا ساتھ دیتی رہی عدالت میں ابھی کیس کا فیصلہ نہ ہواتھا کہ اس کا بیٹاتقریباََ دو سال کی عمرکو ہو کر وفات پا گیا۔جمیلہ اپنے بھائیوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی کیونکہ اسے لگ رہا تھا کے اس کے بیٹے کی موت کے ذمہ دار بھائی ہیں کیونکہ انہوں نے بیٹے کا علاج نہیں کروایا۔جمیلہ کو ایک این جی او کی طرف سے دارالاآمان میں رہنے کی جگہ میسر کروائی گئی اور پچھلے دو سال سے وہ دارلاآمان میں ہے اس کی والدہ بھی وفات پا چکی ہیں بھائیوں کا اس سے کوئی رابطہ نہیں۔۔۔اس ساری بات کو سناتے وقت میں نے اسکو بہت پُر اطمینان پایا میرے لئے یہ عجیب تھا بلکہ بہت عجیب تھا کہ والدین نا شوہر اوپر سے اولاد نہیں پھر بھی اتنا سکون ؟۔میں نے اس سے پوچھا تمہیں نہیں لگتا تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اس نے صاف کہانہیں۔عجیب تھی وہ جس کو کوئی غصہ کسی پر نہیں تھا اس کہانی کو سننے کے بعد میں کچھ دن آرام سے نہ رہ سکی نہ جانے کیوں ،،اس کی کہانی کی فلم میرے ذہن میں کیوں چلتی رہی؟ ،میں عجیب سی کیفیت سے دوچار رہی کہ کون قصوروار ہے اس عورت کا بھائی شوہر حالات یا پھر قسمت؟میں نے بہت سوچا مگر مجھے کوئی مطابقِ عقل اور مناسب جواب نہیں ملا میرے ذہن میںمیرے ایک استاد کی بات گھومتی رہی اللہ تعالیٰ بیٹیاں دے تو ان کی قسمت اچھی دے۔

About apnamianchannu

A City Web Project
This entry was posted in کہانی, خبریں اور میڈیا and tagged , . Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s