555290_200173336789019_443335487_n

تصویر | Posted on by | تبصرہ کریں

421747_155968851220915_502124375_n

تصویر | Posted on by | تبصرہ کریں

19028_155873887897078_2114874291_n

news-09

تصویر | Posted on by | تبصرہ کریں

کامران فیصل

Kamran Faisal0123

تصویر | Posted on by | ٹیگ شدہ , , | تبصرہ کریں

کامران فیصل

Kamran Faisal

تصویر | Posted on by | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں

اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب و تفتیشی آفیسر معروف رینٹل پاور کیس کامران فیصل کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے میاں چنوں کے شہریوں کی احتجاجی ریلی،لٹھ بردار نوجوانوں نے تھانہ سٹی میاں چنوں پولیس کی موجودگی میں شہر کے معروف بازاروں کی دوکانیں زبردستی بند کروا دیں۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب و تفتیشی آفیسر معروف رینٹل پاور کیس کامران فیصل کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے میاں چنوں کے شہریوں کی احتجاجی ریلی،لٹھ بردار نوجوانوں نے تھانہ سٹی میاں چنوں پولیس کی موجودگی میں شہر کے معروف بازاروں کی دوکانیں زبردستی بند کروا دیں۔

486137_474750419254992_2079479662_n

میاں چنوں(رضا جعفری سے)انجمن آڑھتیاں میاں چنوں ،کسان اتحاد میاں چنوں اور تحریک انصاف میاں چنوں کے عہدیداروں نے گزشتہ روزاسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب و تفتیشی آفیسر معروف رینٹل پاور کیس کامران فیصل کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے احتجاج اور مکمل ہڑتال کی کال دی تھی تاہم عام شہریوں پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا تو کسان اتحاد کے چند لوگوں نے ٹی چوک پرٹائر جلاکرجی ٹی روڈ بلاک کرکے احتجاج شروع کردیا کچھ دیر بعد اس میں انجمن آڑھتیاں اور تحریک انصاف کے لوگ شامل ہوگئے تنظیموں کے رہنماؤں میاں عمیر ،سجاد نازش،مدثر عمران بھٹہ،یعقوب گجر،محمد طیب وغیرہ کے کہنے پر احتجاجی ریلی کا آغاز تھانہ سٹی کی جانب کیا گیا اور دوکانداروں کو بار بار اپنی اپنی دوکانیں کرنے کی وارننگ دی جاتی رہی اسی طرح ریلی جی ٹی روڈ ،تھانہ چوک،سرکلر روڈ ،پیٹی بازار،مین بازار،سبزی چوک،تلمبہ روڈ،لیاقت روڈ ،علامہ اقبال روڈ،چوک امام بارگاہ،غازی موڑ سے ہوتی ہوئی ٹی چوک پہنچی جہاں ریلی کے مختلف رہنماؤں میاں عمیر ،سجاد نازش،مدثر عمران بھٹہ،یعقوب گجر،محمد طیب ،بشریٰ ایڈیل،ڈاکٹر محمد رفیق،صوفی سعید احمد صدیقی،حافظ عبدالباسط نے خطاب کیا ان کا کہنا تھاکہ اگرچیف جسٹس پاکستان نے اپنے بیٹے کے کیس کی طرح جانب داری کا ثبوت دیتے ہوئے کامران فیصل کے قتل کا احتساب نہ کیا تو چیف جسٹس کا بھی گھیراؤ کیا جائے گاانہوں آرمی چیف سے بھی نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔احتجاجی ریلی میں سابق ایم پی اے پیر ظہور حسین قریشی اور سابق چیئرمین ضلع کونسل خانیوال نواب فرحت اللہ خان اور سابق ناظم یونین کونسل مہر محمد افضل دولو نے بھی شرکت کی ۔جلوس کے شرکاء نے کامران فیصل کی بڑی تصویر کے ہولدنگ بورڈز، پینا فلیکس اور بینرز بھی اُٹھا رکھے تھے ،مذکورتنظیموں کے سرگرم رہنماؤں و کارکنوں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری،وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے خلاف نازیبا گالیوں پر مبنی شدید نعرہ بازی بھی کی تاہم ریلی کے شرکاء کی تمام کارروائی کے دوران وہاں موجود پولیس اہلکار خاموش تماشائی بنے رہے ۔ احتجاجی ریلی کا اختتام کامران فیصل کے مکان میں دعا پر ہوا۔

شائع کردہ از این جی او, بچے | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں

قصور وار کون تھا؟

اُمِ ابیحہ

اس کو لکھنے سے پہلے میں نے کئی بار سوچا پھر رہنے دیا پھر سوچا پھر رہنے دیا سمجھ نہیں آ رہا تھا لکھوں یا نہ لکھوں پھر سوچا لکھنا چاہئے ہو سکتا ہے کسی اور کو پڑھ کر لگے یہ اس کے ارد گرد کی کوئی کہانی ہے یا پھر کسی کہانی کی طرح کوڑے والی ٹوکری کی نظر ہو جائے پھر بھی لکھنا چا ہ رہی تھی اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ایک سائیکاٹرسٹ نے ایک دفعہ کہا تھا جب دل میں بات ہو اس کہ شیئر نہ کرنا چاہو کسی انسان کے ساتھ تو سب سے اچھا طریقہ ہے اس کو کاغذپر لکھو اور جب سکون ہو جائے تو پھر ردی کی ٹوکری کی ذینت بنا دو کیونکہ اس سے تمہارے دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا اور ساتھ ہی ساتھ وہ راز کسی اور تک نہ پہنچے گا۔اس واقع میں جس عورت کا ذکر ہے اس کا نام میں احتیاطََ نہیں لکھ رہی۔”جمیلہ ” ©اپنے والدین کے ساتھ ایک گاﺅں میں رہ رہی تھی دو بھائیوں کی بڑی بہن تھی باپ پیشے کے لحاظ سے زمیندار تھا گاﺅں میں پرائمری سکول تھا یہا ں سے تعلیم حاصل کی پھر ساتھ والے گاﺅں کا رخ کیا یوں آٹھویں کا امتحان پاس کیا اور نویں کلاس میں داخلہ لیا تو باپ کی ذمہ داری میں اضافہ ہو گیا روز سوکول لانا اور چھوڑنا معمول کی عادت تھی۔ایک دن "جمیلہ ” کے باپ کی طبیعت خراب ہوئی اور وہ بیمار ہو گیا جو معمولی سی بات تھی مگر یہ بات معمولی نہ رہی ایک سال کے طویل عرصے کے بعد "جمیلہ ” کا باپ وفات پا گیا۔”جمیلہ ” کے سالانہ امتحانات تھے مگر وہ شمولیت نہ کر سکی” جمیلہ ” کی ماں نے بیٹی سے کہا اب پڑھائی چھوڑ دو کیونکہ ذمہ داری بھائیوں کے کندھوں پر ہے وہ دونوں بھائی اپنی زمین کی کاشت کاری کر رہے تھے۔دو سال کے بعد” جمیلہ ” کی شادی اپنے چچا کے بیٹے کے ساتھ ہوگئی۔یہ ایک عام سی کہانی ہے اکثر گھروں کی باتیں اور کہانیاں ایسی ہی ہوا کرتی ہیںشادی کے ایک سال بعد "جمیلہ "کا شوہر سعودی عرب روزگار کے لئے چلا گیا۔ تین سال کے عرصے بعد وہ واپس آیا تو” جمیلہ ” کی مشکلات میں اضافہ ہوا.اولاد نہ ہونے کی وجہ سے "جمیلہ ” کو ذہنی کوفت برداشت کرنا پڑی۔”جمیلہ ” کے شوہر کا رویہ بہت اچھا تھا کسی قسم کے مسائل کا” جمیلہ ” کو کبھی سامنا نہ کرنا پڑا۔ چچی جو کے اب ساس تھی اور اپنے بیٹے کی اولاد چاہ رہی تھی بیٹے کی دوسری شادی کے لئے بضد ہو گئیں مگرجمیلہ کا شوہر نہ مانا اور واپس سعودی عرب چلا گیا۔دو سال بعد واپسی ہوئی تو پھر وہ ہی مسائل آخر جمیلہ کا شوہر دوسری شادی کے لئے مان گیا ۔جمیلہ کے شوہر کی دوسری شادی کا ہونا تھا اللہ تعالٰی نے جمیلہ کو ایک بیٹے سے نواز دیا۔ ایک طرف خدا کی نعمت اور دوسری طرف اس نعمت کی نا شکری ۔”جمیلہ ” کو اس کے میکے بھیجا گیا اور ساتھ ہی طلاق بھجوا دی گئی۔اس کا شوہر اس اثناءمیں ملک سے باہر تھا۔ جمیلہ اپنے ماں باپ کے گھر موجود تھی جمیلہ کا بیٹا ایک سال کا ہوا تو بیمار ہو گیا۔بیماری کی تشخیص کا مجھے معلوم نہیں مگر جمیلہ کے مطابق اس کے سر میں کوئی مسلہ تھا۔میرے جیسےی ایک عورت نے مشورہ دیا” جمیلہ ” کا سابقہ شوہر جو بیٹے کا باپ ہے اس سے کہو بیٹے کا علاج کر وائے۔جمیلہ کے سابق شوہر نے بیٹے کا علاج نہ کروایا تواس نے عدالت کا رجوع کیا اورشوہرکوعدالت کی طرف سے نوٹس بھجوا دیا اس بات پر اس کے بھائیوں نے اس سے قطع تعلقی اختیار کر لی مگر© جمیلہ کی ماں اپنی بیٹی کا ساتھ دیتی رہی عدالت میں ابھی کیس کا فیصلہ نہ ہواتھا کہ اس کا بیٹاتقریباََ دو سال کی عمرکو ہو کر وفات پا گیا۔جمیلہ اپنے بھائیوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی کیونکہ اسے لگ رہا تھا کے اس کے بیٹے کی موت کے ذمہ دار بھائی ہیں کیونکہ انہوں نے بیٹے کا علاج نہیں کروایا۔جمیلہ کو ایک این جی او کی طرف سے دارالاآمان میں رہنے کی جگہ میسر کروائی گئی اور پچھلے دو سال سے وہ دارلاآمان میں ہے اس کی والدہ بھی وفات پا چکی ہیں بھائیوں کا اس سے کوئی رابطہ نہیں۔۔۔اس ساری بات کو سناتے وقت میں نے اسکو بہت پُر اطمینان پایا میرے لئے یہ عجیب تھا بلکہ بہت عجیب تھا کہ والدین نا شوہر اوپر سے اولاد نہیں پھر بھی اتنا سکون ؟۔میں نے اس سے پوچھا تمہیں نہیں لگتا تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اس نے صاف کہانہیں۔عجیب تھی وہ جس کو کوئی غصہ کسی پر نہیں تھا اس کہانی کو سننے کے بعد میں کچھ دن آرام سے نہ رہ سکی نہ جانے کیوں ،،اس کی کہانی کی فلم میرے ذہن میں کیوں چلتی رہی؟ ،میں عجیب سی کیفیت سے دوچار رہی کہ کون قصوروار ہے اس عورت کا بھائی شوہر حالات یا پھر قسمت؟میں نے بہت سوچا مگر مجھے کوئی مطابقِ عقل اور مناسب جواب نہیں ملا میرے ذہن میںمیرے ایک استاد کی بات گھومتی رہی اللہ تعالیٰ بیٹیاں دے تو ان کی قسمت اچھی دے۔

شائع کردہ از کہانی, خبریں اور میڈیا | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں

HELPER REQUIRED 20 WORK VISA FOR UAE GOOD SALARY PACKAGE

HELPER REQUIRED

20 WORK VISA FOR UAE
GOOD SALARY PACKAGE

شائع کردہ از نوکری, بیرون ملک ملازمت | تبصرہ کریں

سابقہ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہٰی ، انور غازی اور محمود احمد طارق سے گفتگو کر رہے ہیں

شائع کردہ از تاریخ, سیاست | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

شہر کی خوبصورتی کےلئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں :ٹی ایم او میاں چنوں چودھری فیاض احمد ظفر

میاں چنوں(جھرمٹ نیوز)ٹی ایم او میاں چنوں چودھری فیاض احمد ظفر نے نمائندہ جھرمٹ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایاکہ ٹی ایم اے کی جانب سے ماحول کی خوبصورتی کیلئے نئی تعمیر شدہ جی ٹی روڈ کے دونوں طرف برساتی نالے کے ساتھ ساتھ جہاں جہاں بھی کچی جگہ دستیاب ہوگی وہاں سبزہ پھول بوٹے اور پودے وغیرہ لگائے جائیں گے اور یہ کام شروع بھی کردیا گیا ہے یہ منصوبہ بائی پاس سے بائی پاس تک اندرون شہر ہوگا ٹی ایم او نے بتاےاکہ اس سے انشا اللہ شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا اور ہم شہر کی بہتری کیلئے ایسے مزید اقدامات کریں گے۔

شائع کردہ از خبریں اور میڈیا | ٹیگ شدہ , , | تبصرہ کریں